نئی دہلی، 14 جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مودی حکومت ٹیلی اسپیکٹرم کے لئے اب تک کی سب سے بڑی نیلامی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔اندازہ ہے کہ 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی قیمت 6 لاکھ کروڑ روپے ہوگی۔ان اسپیکٹرم کی نیلامی کے بعد 5 جی سروسز کا آغاز ہو سکے گا۔ان میں دیہی علاقوں میں فائبر ٹو دی-ہوم (FTTH) انٹرنیٹ کو پہنچانا بھی شامل ہے۔ٹیلی معاملات کے فیصلے لینے والا اولین ادارے ڈیجیٹل کمیونی کیشنز کمیشن (ڈی سی سی) نے اس منصوبہ کو بتایا۔اس سال کے آخر تک قریب 8600 میگاہرٹز کے موبائل ایئر ویز کی نیلامی حکومت کرے گی۔ان میں ٹیلی سروسز کے موجودہ نظام کے لئے سپیکٹرم بھی شامل ہوں گے۔اس کے علاوہ نئے 5 جی سروسز کے سپیکٹرم بھی ہوں گے۔ٹیلی سکریٹری اور ڈی سی سی کے صدر ارونا سدرراجن نے ہمارے بتایا کہ اگر تمام سپیکٹرم کو ریزرو داموں میں بھی فروخت کیا جاتا ہے، تو بھی حکومت کو کم سے کم 5.8 لاکھ کروڑ روپے نیٹ ملیں گے۔تاہم حکومت کا خیال اس سپیکٹرم نیلامی سے زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ٹیلی کام سروسز پہلے سے زیادہ بہتر ہوں۔ڈی سی سی نے ٹرائی سے گزشتہ مراحل میں سپیکٹرم فروخت کے کمزور رہنے کی وجوہات کے بارے میں پوچھا ہے۔غور کرنے والی بات ہے کہ ٹرائی نے پہلے ہی نئے مرحلے کی نیلامی کے لئے ریزرو داموں کا مشورہ دیا ہے۔ٹیلی وزارت کے ایک اعلی افسر نے بتایا کہ ٹرائی کو تمام سفارشات کو ایک بار دوبارہ دیکھنا چاہئے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ موجودہ سفارشات وزیر اعظم کے ’سب کے لئے براڈبینڈ‘ ویژن کو یقینی کرتی ہیں یا نہیں۔ٹیلی وزارت کے اہلکار نے کہاکہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ 5 جی استعمال نہ صرف اسمارٹ کاروں اور اسمارٹ شہروں کے لئے ہو، بلکہ دوسری سروسز جیسے دیہی علاقوں میں صحت اور تعلیم کے لئے بھی یہ کام آئے۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ چینی کمپنی’ہواوے‘ نیلامی کے عمل میں حصہ لے سکتی ہے یا نہیں۔